Friday, December 18, 2009

پاگل موسم

لگتا ہے کہ اس دفعہ موسم پاگل ہوگیا ہے، کہ صبح عام سردیوں کی سی ٹھٹھرتی ہوئی، منفی دو کے قریب درجہ حرارت بقول گاڑی کے ڈیش بورڈ کے، دس بجے زور کی برفباری کوئی آدھے گھنٹہ کےلئے لگاتار برفباری گویا روئی کے گالے اڑ رہے ہوں، پھر بارہ بجے کے قریب واہ واہ دھوپ ، یورپ کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی سردیوں کی دھوپ بھی خنک ہی ہوتی ہے۔ مگر ابھی نکلنے لگا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جناب پھر سے برفباری شروع ہے۔ بقول موسمی پیشن گویاں کرنے والی ویب کے یہ آنکھ مچولی چلتی رہےگی۔ البتہ سردی کافی ہے ان دنوں میں رات منفی چار تک بھی چلی جاتی ہے۔

Thursday, December 17, 2009

ہمارا گاؤں

جہلم شہر سے تیرہ کلومیٹر شمال کو ہمارا گاؤں گٹیالی دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے حد یہ کہ نوجوانی کے زمانہ میں صبح شام دریا کے پانی میں ڈبکی لگائے بغیر نہ دن شروع ہوتا اور نہ ہی ختم، ہمارے گردونواح کا حصہ بمعہ بیلہ جو تقریباُ بیس برس پہلے تک جب ہمارے دادا جی زندہ تھے کاشت بھی ہوتا تھا مونگ پھلی، تربوز اور تمباکو کی پیداوار کے گردو نواح میں مشہور، بعد میں تعلیم نے کاشکاری کو زوال پزیر کیا اور سب نے ہاتھ کے بجائے دماغ سے کمائی کرنے کی کوششیں شروع کردیں، آج آپ کو سارے فوج کی سروس میں، ڈاکٹرز، وکلاء، انجنئیر اور بیرون ملک ڈش واشر وغیر ملیں گے، بیلہ کے علاقہ میں کاشتکاری ختم ہوچکی البتہ آزاد کےعلاقہ میں اکا دکا کاشتکاروں اور مویشی پالنے والوں کے ڈیرے مل جائیں گے۔ جہاں ہماری حد ختم ہوتی ہے وہاں سے آزاد کشمیر کی سرحد شروع ہوجاتی ہے۔ محکمہ مال کے نقشہ دیہہ جسے عرف عام میں لٹھہ کہا جاتا ہے کہ سوت کے ایک کپڑا پر کسی ماہر پٹواری نے ہاتھ بنایا تھا اور اتنا پیچدہ ہے کہ ہر مقدمہ میں اسکی تشریح اتنی مختلف ہوتی ہے کہ مقدمہ ختم تک نہیں ہوپایا۔ اس کے مطابق جو آخری بار انیصد چالیس میں مرتب ہوا۔ آزاد کشمیر اور ہمارے دیہہ کی سرحد تقریباُ 3 کلومیٹر ایک ساتھ میں چلتی ہے، اس علاقہ میں مچھلی اور سؤروں کا شکار بکثرت ہوتا ہے اور سردیوں میں مرغابی اور تلیر بھی پھڑکائے جا سکتے ہیں نشانہ اچھا ہونا شرط ہے، اور غیر قانونی طور پر کتوں اور مرغوں کی لڑائیاں بھی بیلہ میں ہوتی ہیں۔ آپ اسے جہلم کا علاقہ غیر ہی سمجھیں کہ اکثر اوقات مفروروں وغیرہ کی موجودگی کی بھی افواہیں اٹھتی رہتی ہیں اور پولیس کی طرف سے چھاپوں کی بھی اطلاع ملتی ہے اور پھر تماشایوں کی بھاگھم بھاگ کی بھی جسے لیاقت بھائی پھڑلو پھڑلو کا نام دیتے ہیں

Monday, December 07, 2009

ہم چاروں سوار

Monday, November 30, 2009

وطن جانے کے بارے افواہ

اٹلی سے شائع ہونے والے اکثر پاکستانی اخبارات، ویب سائیٹس میں پرمیسو دی سوجورنو کی تجدید کی درخواست کی رسید کے ساتھ اپنے ملک جانے پر پابندی کی خبر قطعی طور پر بے بنیاد ہے ۔
اس خبر کے بعد پاکستانیوں میں چہ مگویاں شروع ہو گئی تھیں اور وہ لوگ جو اپنے سفر کا باقاعدہ طور پر پروگرام بنا چکے تھے بہت پریشان تھے، مجھے گزشتہ تین دنوں میں کوئی تیس کے قریب دوست/احباب نے فون کیا اور اس بارے میں تصدیق چاہی مگر انکو کچھ نہ بتا سکا، کہ مصدقہ ذرائع سے اس بارے کوئی خبر مجھ تک نہیں پہنچی تھی۔ مگر اپنے طور پر تردید بھی نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ آج صبح میری ہمارے شہر کے امگریشن آفس کے ساتھ بات ہوئی ہے اور ان کے بقول اس طرح کی کوئی خبر موجود نہیں ہے اور نہ ہی انکے پاس کوئی اپڈیٹ ہے۔
پرانے طریق پر ہی لوگ اپنے وطن کو سدھاریں، براست یورپ ہوائی سفر نہیں کرسکتے البتہ دیگر ممالک میں ٹرانزٹ کرسکتے ہیں، اسی طرح اٹلی کی جس ائرپورٹ سے روانگی ہوگی آمد بھی ادھر ہی ہونی جاہیے اور یہ کہ ائیرپورٹ امیگریشن سے پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ رسید پر بھی خارج/داخل کی مہر لگوائی جائے۔
ہمارے اخبار نویسوں سے میری التماس ہے کہ کوئی بھی خبر جاری کرنے سے پہلے اسکی صداقت کرے بارے میں جانچ ضرور کرلیا کریں، تاکہ کہ عوام پریشان نہ ہو۔ اللہ آپ کا بھلا کرے

Saturday, November 21, 2009

بلا تبصرہ

یہ میل کافی دن پہلے موصول ہوئی، اس طرح کی ڈاک کافی عرصہ سے آرہی ہے جس میں افریقہ کے کسی دور دراز ملک کی کوئی بڑی شخصیت فوت شدہ ہوتی اور اسکے مشیر یا ناجائز ورثاء کی طرف سے بندہ کو بہت ایمناندار مان کر اس رقم کی ذاتی اکاؤنٹ میں ترسیل کی درخواست ہوتی، حتٰی کہ علی کیمیکل کے کزن صاحب کی طرف سے بھی عراق جنگ کے فوراُ بعد ایسی ہی درخواست موصول ہوئی۔ مگر موصوف کا موضوع نرالا ہی ہے۔ آپ خود پڑھیے اور اسکو داد دیجئے
date30 October 2009 16:25subjecthelloSigned bygmail.com hide details 30 Oct Dear Sir/Madam, I am an auditor in Virgin Bank of United Kingdom and Benazir Bhutto's Financial Advicer till death. She died without accomplishing her mission.she mapped out £50million for her political campaign under my custody; I only need your help to transfer the money to avoid any trace on me.I will share the money equal with you, if only you will follow my instructions with the details I will provide to enhance the transfer to your account without any problem. Find more info in the website below to clear your curiosity; http://www.achievement.org/autodoc/page/bhu0bio-1,http://news.bbc.co.uk/1/hi/in_depth/south_asia/2007/death_of_benazir_bhutto/default.stm Please assure me that you will act accordingly as I stated herein, hope to hear from you soon.Cheers Chippy owenachippowena@aol.com

اٹلی سے پاکستانی ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار

آج صبح ٹی جی 5 پر خبر کے مطابق 2 پاکستانیوں کے ممبئی میں ہونے والے گزشتہ دہشت گرد حملوں میں معاونت کے الزام میں بریشیا شہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے،
ٹی وی پر چلنے والی اس خبر سے پورے شہر میں چہ مگویوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستانی محنت کش ایک بار پھر دہشت گردی کے لیبل کا شکار ہوچکے ہیں، امید ہے کہ گزشتہ روایت کے مطابق ان لوگوں کو بھی تفتیش کرکے چھوڑ دیا جائے گا مگر کیا ہوگا کہ اول تو ہمارے اخبارات کو آج تک اسکی خبر نہیں سکی اور حکومت پاکستان کو بھی لازم علم نہیں‌ہوگا، بی بی سی کی سائیٹ کے علاوہ ابھی تک کسی بھی قابل ذکر اخبار/سائیٹ نے اسے اہمیت نہیں دی، لازمی طور پر ہمارا سفارتخانہ بھی بے خبر ہوگا۔
ان کی متوقع رہائی کے موقع پر مقامی میڈیا میں بھی کوئی خبر جاری نہیں ہوگی، اس طرح یہ لیبل پاکستانی محنت کشوں پر ہمیشہ رہے گا

Friday, October 09, 2009

من ترا ملا بگویم

من ترا ملا بگویم و تو میرا حاجی بگو کا محاورا اس وقت کا ہے جب ہم لوگ کالج میں تالاب علم ہوتے تھے، خیر سے وہ تو اب بھی ہیں، ہمارے دو پروفیسر صاحبان ایک دوسرے کی تعریف میں موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے اور اس موقع پر سر منظور کی طرف سے یہ محاورا بزبان فارسی شائع ہوتا۔ ترجمہ کچھ یوں ہوا کہ میں تجھے ملا کہا کروں اور تو مجھے حاجی کہا کر۔
اس محاورہ کا عملی استعمال غیرملکیوں کے نمایندہ دو آن لایین اخبارات بزعم خود، گجرات لنک اور دی جزبہ ڈاٹ کام پر دیکھا،
بریشیا میں پاکستانی صحافیوں ، لکھاریوں کی تنظم بندہ کی تحریک پر بنی اور کہلایِی ہے بریشیا اردو پریس کلب۔ یہی دو ہفتوں کی بات ہے۔ کل ملا کہ چھ صحافی ہونگے اور چھ کے چھ ہی عہدیداران چن لیے گیے ہیں یعنی جو کوءی بھی ہے وہ صاحب کرسی ہی ہے۔ بقول شخصے سب ناخدا ہوءے۔ گجرات لنک میں اٹلی سے شایع ہونے والی کل خبروں دس میں سے پانچ مبارک
باد، ایک تعزیت اور ایک کسی سیاسی کارکن کو کسی بچے کا سر مونڈتے ہوءے دکھایا گیا ہے۔ دوسرے میں پانچ خبریں صرف مبارک باد کی۔

Thursday, September 24, 2009

پیرمیسو دی سوجورنو کی بڑی ڈیلیوری

مصدقہ اطلاعات کے مطابق کستورہ دی بریشیا اس ماہ کی چھبیس اور ستایس تاریخ کو پرمیسو دی سوجورنو کی غیر معمولی ڈیلیوری کررہا ہے، جن اصحاب کے نام اے سے لیکر جے تک ہیں انکو چاہیے کہ کستورہ جاویں اور اپنی سوجورنو کے بارے میں معلومات حاصل کریں، بلخصوص وہ حضرات جنکی سجورنو طویل عرصے سے کستورے میں پھنسی ہوءی ہے۔